س مبہم اور غیر واضح دور میں جب ہمارے دلوں میں دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں جب ہمارےضمیر مردہ ہو چکے ہیں جہاں نفرت و عداوت اپنے عروج پر ہے تو بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں محبت اور رحمدلی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پانی اور ہوا کی۔ ایسے لگتا ہے ہم محبت کو بھلا چکے ہیں اور اس سے بڑھ کرشفقت اور کرم ایسا لفظ ہے جو خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر نہ ہی اپنےلئے رحمدلی ہے نہ ہی دوسرے لوگوں کیلئے محبت ہے۔ ہمارے اندر نرمی کا احساس ختم ہو تا جا رہا ہے ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور ہمارا اردگرد عداوت کے سیاہ بادلوں سے ڈھک چکاہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر شخص مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا میں برداشت اورتحمل کو نقصان پہنچانے والے بہت زیادہ ظالم موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جنگ کرنے کے بہانےاور مختلف جھوٹوں کے ذریعے دوسروں کو بدنام کرنے کے طریقے ڈھونڈھتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زندان، پنجہ اور ایسے الفاظ سےیاد کرتے ہیں جو خون کھولا دیتا ہے۔



یہ افراد اور لوگوں کے بیچ خطرناک قسم کی تفریق ہے ہم اپنے جملوں کو'ہم'، 'تم' اور 'دوسرے"سےشروع کرتے ہیں۔ ہماری نفرت کبھی ختم نہیں ہو تی۔ ہم اپنی صفیں متلا دینے والے طریقے سے ختم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جاری رکھیں گے لیکن پھر بھی ایسے احساسات برقرار رکھتے ہیں جومستقبل میں اختلافات کو جنم دیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں اور جدائی اور دوری ہمارے ہر عمل سے عیاں ہو تی ہیں۔ ہم کٹی ہوئی مالا کی طرح ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم غیرمسلموں سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
Share To:

Pak Urdu TUbe

Post A Comment:

0 comments so far,add yours