جون 2018
کہتے ہیں ایک پہاڑ کی چوٹی پر لگے درخت پر ایک عقاب نے گھونسلہ بنا رکھا تھا جس میں اُس کے دیے ہوئے چار انڈے پڑے تھے کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ایک انڈا نیچے جا گرا جہاں ایک مرغی کا ٹھکانہ تھا۔ مرغی نے عقاب کے انڈے کو اپنا انڈا سمجھا اور سینے کے لیے اپنے نیچے رکھ لیا۔ ایک دن اُس انڈے سے ایک پیارا سا ننّھا منا عقاب پیدا ہوا جس نے اپنے آپ کو مرغی کا چوزہ سمجھتے ہوئے پرورش پائی اور مرغی سمجھ کر بڑا ہوا۔ ایک دن باقی مرغیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اُس نے آسمان کی بلندیوں پر کچھ عقاب اُڑتے دیکھے۔ اُس کا دل چاہا کہ کاش وہ بھی ایسے اُڑ سکتا……جب اُس نے اپنی اِس خواہش کا اظہار دوسری مرغیوں سے کیا تو اُنھوں نے اُس کا مذاق اُڑایا اور قہقہے لگاتے ہوئے کہا "تم مرغی ہو اور تمہارا کام عقابوں کی طرح اُڑنا نہیں۔" 


کہتے ہیں اِس کے بعد اُس عقاب نے اُڑنے کی حسرت دل میں دبائے ایک لمبی عمر پائی اور مرغیوں کی طرح جیتا رہا اور مرغیوں کی طرح ہی مرا۔ 


منفی سوچوں کو دل میں بسا کر رہنا، اُن سوچوں کا غلام بن کر رہنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اگر آپ عقاب تھے اور آپ کے خواب آسمان کی بلندیوں میں اُڑنے کے تھے تو پھر اپنے خوابوں کو عملی جامہ دیجیے۔ کسی مرغی کی بات پر دھیان نہ دیجیے کیونکہ اُنھوں نے تمہیں بھی اپنے ساتھ ہی پستیوں میں ڈالے رکھنا ہے۔ اپنے شخصی احترام کو بلند رکھنا اور اپنی نظروں کو اپنی منزل پر مرکوز رکھتے ہوئے پُر عزم اور بلند حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ معاملات آگے نہ بڑھ رہے ہوں تو اپنی روزمرہ کی عادتوں سے ہٹ کر کچھ کرنا بھی کامیابیوں کو آسان بناتا ہے اور پھر یہ بھی تو ذہن میں رکھنا ہوگا…

انسان پر سب سے پہلے حقوق اللہ کی ادائیگی کو ضروری قرار دیا گیا ہے، کیونکہ انسان کو عدم سے وجود بخشنے والا صرف ایک اللہ ہے، لہذا انسان کے خالق و مالک ہونے کے ناطے اللہ تعالی کے حقوق ہر لحاظ سے فائق و برتر ہیں اور حقوق اللہ میں سرفہرست حق یہ ہے کہ اللہ تعالی کو وحدہ لاشریک مانا جاۓ اور توحید باری تعالی کا قولی وعملی اقرار کیا جاۓ- روز آخرت انسان کی نجات کا معیار یہی توحید باری تعالی ہے۔

حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد کا معاملہ ہے- حقوق العباد میں سرفہرست والدین کا حق ہے- اللہ تعالی کے بعد انسان کا سب سے قریبی تعلق اپنے والدین سے ہوتا ہے- والدین ہی اسکی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسکی تعلیم وتربیت کی وجہ سے دیگر انسانوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انکے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کیا جاۓ۔

قرآن مجید کی کم وبیش چار آیات میں اللہ تعالی نے والدین کے حق کو اپنے حق کے متصل بعد ذکر کیا ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں والدین کے حقوق کی کیا اہمیت ہے۔

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا۔

س مبہم اور غیر واضح دور میں جب ہمارے دلوں میں دشمنیاں پیدا ہو چکی ہیں جب ہمارےضمیر مردہ ہو چکے ہیں جہاں نفرت و عداوت اپنے عروج پر ہے تو بات بالکل واضح ہے کہ ہمیں محبت اور رحمدلی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی پانی اور ہوا کی۔ ایسے لگتا ہے ہم محبت کو بھلا چکے ہیں اور اس سے بڑھ کرشفقت اور کرم ایسا لفظ ہے جو خال خال نظر آتا ہے۔ ہمارے اندر نہ ہی اپنےلئے رحمدلی ہے نہ ہی دوسرے لوگوں کیلئے محبت ہے۔ ہمارے اندر نرمی کا احساس ختم ہو تا جا رہا ہے ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں اور ہمارا اردگرد عداوت کے سیاہ بادلوں سے ڈھک چکاہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اور ہر شخص مبہم نظر آتا ہے۔ دنیا میں برداشت اورتحمل کو نقصان پہنچانے والے بہت زیادہ ظالم موجود ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ جنگ کرنے کے بہانےاور مختلف جھوٹوں کے ذریعے دوسروں کو بدنام کرنے کے طریقے ڈھونڈھتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو زندان، پنجہ اور ایسے الفاظ سےیاد کرتے ہیں جو خون کھولا دیتا ہے۔



یہ افراد اور لوگوں کے بیچ خطرناک قسم کی تفریق ہے ہم اپنے جملوں کو'ہم'، 'تم' اور 'دوسرے"سےشروع کرتے ہیں۔ ہماری نفرت کبھی ختم نہیں ہو تی۔ ہم اپنی صفیں متلا دینے والے طریقے سے ختم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جاری رکھیں گے لیکن پھر بھی ایسے احساسات برقرار رکھتے ہیں جومستقبل میں اختلافات کو جنم دیں۔ ہم ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں اور جدائی اور دوری ہمارے ہر عمل سے عیاں ہو تی ہیں۔ ہم کٹی ہوئی مالا کی طرح ادھر ادھر بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم غیرمسلموں سے زیادہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔



اگر آپ کو میری وڈیو پسند آئے تو میرے چینل کو سبسرائب ضرو کریں شکریہ